آپا نائلہ کی کہانی
Arshad A Javed
June 21, 2023
بڑھاپے میں اپنی تنہائی سے لڑتی ہوئی بوڑھی ماں . گھر میں اکیلی- کوئی حال چال پوچھنے والا نہیں ، کوئی ہنسی مذاق کرنے والا نہیں .اب تو وہ اسکی عادی بھی ہو چکی ہے آج بھی کچھ نیا نہیں تھا . اتوار کی چھٹی تھی . بیٹا اور بہو اپنے بچوں کو لیکر کسی ہوٹل میں کھانا کھانے گئے ہیں . ہمیشہ کی طرح ماں کو ساتھ چلنے کے لئے کسی نے نہیں پوچھا. بھوک لگی تو بوڑھی ماں نے اپنے لئے تھوڑی دال گرم کی آدھی کھائی اور باقی رکھدی . پھر دیوار سے ٹیک لگا کربچوں کی راہ دیکھنے لگی. نظریں دروازے پر ٹکی تھیں . رات دیر گئے بچے واپس آے . کسی نے ماں سے کچھ نہیں پوچھا اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے . تھوڑی دیر بعد ماں بھی سو گئی . پتا نہیں نیند بھی آئی یا نہیں . پر کسے پرواہ
یہ اس کا وہی بیٹا ہے جسکے لیے یہ ماں راتوں کو جاگتی تھی . نو مہینے پیٹ میں رکھنے کے بعد تکلیف کے ساتھ اسے جنا . اپنی اس اولاد کے لئے سارے زمانے سے لڑنے کی بھی پرواہ نہیں کی حتیٰ کہ اپنے شوہر سے بھی اپنے بیٹے کے لئے لڑ جاتی تھی . پر آج ایسا لگتا ہے جیسے یہ گھر میں کوئی غیر ضروری سی شے ہے
ہمارے سماج میں اکثر یہ واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں . زیادہ تر لوگ اپنی ماں کی ایسی ہی درگت کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو تو گھر میں بوڑھی ماں کا وجود ہی ناگوار گزرتا ہے اور وہ ماں کو اولڈ ہوم کے حوالے کر دیتے ہیں . بہت کم گھرانے ایسے ملیں گیں جہاں ماں کو اسکا اصل مقام ملتا ہو
اس طرح کے واقعات جب بھی سامنے آتے ہیں سارا غصہ اور الزام بیٹے اور بہو کے حصّے میں چلا جاتا ہے . عام طور پر لوگ یہ کہتے ملیں گیں کہ بیٹا تو بیوی کے اشارے پے چلتا ہے اوردونوں نے مل کر ماں کی یہ درگت کر رکھی ہے .اگر دیکھیں تو ایک طرح سے قصور ہے بھی انہی دونوں کا . اگر یہ دونوں یا کوئی ایک بھی ماں کو عزت دینا چاہتا تو ماں کی یہ حالت نہ ہوتی
لیکن اگر میں کہوں کہ ماں نے اپنی بربادی کی یہ سکرپٹ خود اپنے ہاتھوں سے لکھی ہے تو آپکو حیرت ہوگی – بظاہر تو ہمیں اس صورت حال کے ذمدار بیٹا اور بہو دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں کسی اور سے زیادہ یہ بوڑھی ماں خود اپنی اس حالت کی ذمدار ہے . بہت کڑوا ہے پر سچ ہے – ماں کی اس بیبیسی کو سمجھنے کے لئے ہمیں آگے نہیں پیچھے دیکھنا ہوگا- اپنی بات کو سمجھانے کے لئے میں آپکو ایک بلکل سچی کہانی سناتا ہوں. میری آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی . اس کہانی کے سارے کردار حقیقی ہیں صرف نام فرضی ہیں . چلیں کہانی شروع کرتے ہیں
ہمارا بچپن پرانی دلی میں گزرا . پرانی دلی میں گھروں کی دیواریں مشترکہ اور چھتیں بھی ایک دوسرے سے ملی ہوتی ہیں . پڑوس میں میل جول بھی کافی ہوتا ہے . ہمارے گھر کے ٹھیک پڑوس میں ایک فیملی رہتی تھی جنہں ہم آپا نائلہ کے نام سے جانتے تھے . بڑی خوش حال ، ہنستی کھیلتی فیملی ، سارے بہن بھائی مل جل کر رہتے . صاف ستھرا گھر . سفید چاندنی بچھی ہوئی . آپا نائلہ کے بچوں کے ساتھ ہم بھی کھیلا کرتے . انکے گھر جانے پر ایک آئیڈیل فیملی کا احساس ہوتا تھا . مگر اسی گھر میں ایک چیز بڑی عجیب تھی. کمرے کے باہر ایک کونے میں ادوان کی چارپائی پر ایک بوڑھی سی عورت لیٹی ہوتی تھیں . چارپائی پر ایک میلی سی چادر اور پرانا سا تکیہ . ہمیں نہیں پتہ تھا یہ محترمہ کون تھیں. کبھی کسی کو ان سے بات کرتے نہیں دیکھا نہ ہی گھر کے کسی فرد کو انکے قریب جاتے دیکھا . انکی حالت گھر میں ایسی ہی تھی جیسے قالین میں ٹاٹ کا پیوند . جب بڑے ہوئے توپتہ چلا یہ بوڑھی عورت کوئی اور نہیں بلکہ آپا نائلہ کی ساس ہیں . آپا نائلہ کے شوہر بھائی کمال بھی ساتھ رہتے تھے لیکن ہم نے انھیں بھی کبھی اپنی ماں سے بات کرتے نہیں دیکھا . وقت گزرتا رہا . پھر ایک دن انکے انتقال کی خبر آگئی . اپنے بڑھاپے کی لمبی سزا کاٹنے کے بعد آپا نائلہ کی ساس دنیا سے رخصت ہو گیئں – گھر میں جو ایک ٹاٹ کا پیوند تھا وو بھی چلا گیا – گھر اب بلکل صاف ستھرا ہوچکا تھا
چند سال گزرے اور آپا نائلہ نے بڑی دھوم دھام سے اپنے بیٹے روحیل کی شادی کردی – بیٹے کی شادی کے بعد وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے پلٹے گا یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا – روحیل نے سب سے پہلے اپنے سالوں کے ساتھ مل کر اپنے چھوٹے بھائی کی دکان پر قبضہ کیا – آپا نائلہ کچھ نہ کر سکیں کیونکی اب گھر میں انکی کوئی نہیں سنتا تھا . بھائی کمال بھی دل کے دورے کے سبب انتقال کر چکے تھے
میں اپنی پڑھائی پوری کرکے بیرون ملک چلا گیا – سال میں جب چھٹیوں میں گھر آتا تو آپا نائلہ اکثراپنے گھر کے دروازے پر کھڑی مل جاتیں – سلام دعا کے بعد فوراً ہی اپنی روداد سنانا شروع کر دیتیں – لگتا تھا جیسے پتہ نہیں کتنی باتیں ان کے اندر ہی اندر گھٹ رہی ہیں جسے وہ باہر نکلنا چاہتی ہیں بتاتی تھیں کہ وہ کتنا بیمار ہیں . گھر میں کوئی دوائی کے لئے بھی نہیں پوچھتا – خود ہی قریب کے سرکاری اسپتال میں چلی جاتی ہیں – گھنٹوں لائن میں لگتی ہیں دوائیاں بھی پوری نہیں ملتیں – نہ کبھی بیٹا خیریت لے اور نہ کبھی بہو
یہ سب سن کر مجھے بڑا افسوس ہوتا اور مجھے یاد آتا کس طرح ان کے آنگن میں یہی بچے کھیلتے کودتے اور خوش و خرم ساتھ ساتھ رہتے تھے- آپا نائلہ ایک شفیق ماں کی حیثیت سے ان کی نگہبانی کرتیں اور ان بچوں کی ہر خوشی کا خیال رکھتیں – آج اسی ماں کی یہ حالت دیکھ کر گہرے دکھ کا احساس ہوتا
بحر حال اب جو میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ جان کر آپ کے ہوش اڑ جاۓ گیں – آہستہ آہستہ آپا نائلہ کا جو انجام ہوا وہ شاید اس سے بھی بدتر تھا جو انکی ساس کا ہوا تھا. اسی گھر میں انھیں ایک پلنگ دے دیا گیا جس پر وہ سارا دن پڑی رہتی تھیں – نہ کوئی انکے پاس جاتا نہ ان سے بات کرتا . انکی ایک شادی شدہ بیٹی نے میرے بھائی سے درخواست کی کا وہ انکی ماں کے لئے روزانہ کچھ کھانے کے لئے بھیج دیا کریں کیونکے وہ اکثر بھوکی رہتی ہیں میری بھائی نے جب آپا نائلہ کے لئے کھانا بھیجنا شروع کیا تو روحیل کو یہ بہت ناگوار گزرا اس نے میرے بھائی کو کھانا بھیجنے سے منع کروا دیا – کہا ہماری ماں ہے ہم خود جو چاہے دینگیں
آپا نائلہ نے زندگی کے کئی سال اسی حالت زار میں گزارے – بھائی کے رویے کے سبب بہنوں نے بھی گھر آنا بند کردیا – اب کسی کو نہیں پتہ تھا کہ آپا نائلہ پر کیا بیت رہی ہے – پھر ایک دن ان کے انتقال کی خبر آگئی . انتقال کیسے ہوا اور کب ہوا یہ بھی حتمی طور پر کسی کو نہیں پتہ چلا – جب لوگوں نے روحیل سے پوچھا کے کب انتقال ہوا تو اس کا جواب تھا کہ شاید رات کو کسی وقت ہو گیا ہوگا – اندازہ لگائیں آپا نائلہ کی موت کے وقت کوئی انکے پاس نہیں تھا نہ ہی انکے اپنے گھر میں کسی کو یہ محسوس ہوا کہ پلنگ پر لیٹی یہ بوڑھی ماں زندہ ہے یا مردہ
یہ کچھ اور نہیں مکافات عمل کا بے رحم قانون ہے جو کسی کو نہیں بخشتا – آپا نائلہ نے اپنی کہانی خود اپنے ہاتھوں سے لکھی تھی جسے انجام تک ان کے بیٹے اور بہو نے پنہچایا
مکافات عمل یا کرما کا یہ وار یہ بڑی خاموشی سے پڑتا ہے اور چکی کی طرح پیس کر چلا جاتا ہے
آپا نائلہ کی یہ کہانی ہر نوجوان مرد و عورت کے لئے ایک عبرت ہے . یہ کسی ایک صنف کے لئے نہیں ہے – اگر آپ چاہتے ہیں آپ کی اولاد بڑھاپے میں آپکی نا قدری نہ کرے تو اپنی جوانی میں بوڑھے ساس سسر اور بوڑھے ماں باپ کا خیال رکھیں – انھیں عزت دیں، وقت دیں – جیسا آپ آج بوۓ گیں کل ویسا ہی کاٹیں گیں