آج کا قتل

چھٹی کا دن تھا . میں دیر سے سو کر اٹھا . کھڑکی کھولی تو باہر کا موسم انتہائی سہانا اور روح پرور تھا . ہلکی ہلکی بارش کی وجہ سے پیڑ پودے غسل لیکر چمک رہے تھے، میں تیار ہو کر کمپاونڈ کے پارک کی طرف چل دیا . مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ماحول میں عطر گھول رہی تھی ، پارک کے پھول موتی کی طرح چمک رہے تھے . ایک جنت کا سا سماں تھا. میں اسی شوق و مستی جذب و شوق کے عالم میں پارک کی ایک بینچ پر بیٹھ گیا. مجھے بڑا اطمینان محسوس ہوا . ایسے ماحول میں میں اپنے سارے غم بھول گیا

پھر اچانک مجھے یاد آیا کہ بدھ کے دن میری سی .ایف .او  کے ساتھ ایک ضروری میٹنگ ہے جس میں میری ایک اہم پریزنٹیشن بھی ہے . حالانکہ میں میٹنگ کی پوری تیاری کر چکا تھا لیکن اس کا خیال آتے ہی موسم کا مزا کرکرا ہوگیا اورمیں  آنے والے کل کے اندیشوں میں گرفتار ہوگیا. جب ذہن بہک کے آفس کی طرف چلا گیا تو مجھے ایک ہفتے پہلےکی میٹنگ کی بات یاد آ گئی کہ کس طرح میرے باس نے مجھ پر تنقید کی تھی جو میرے لئے کسی بے عزتی سے کم نہیں تھی ۔ یہ سوچ کرمیرا  خون کھولنے لگا۔ موسم اتناہی   خوبصورت تھا، مناظر اتنے ہی حسین تھے لیکن میں  ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کے اندیشے میں اتنا گرفتار ہوا کہ آج کو بھول گیا. میں بینچ سے اٹھا اور گھر واپس آگیا . مجھے اب موسم سے کوئی سروکار نہیں تھا

یہ کہانی  ہماری روز مرہ کی کشمکش کی ایک مثال ہے کہ کس طرح ہم اپنا ہر آج کل کے اندیشے اور ماضی کے غم و غصے کی نظر کر دیتے ہیں . ہمارا آج دراصل وہ کل ہے جسکا ہم گزرے ہوئے کل میں انتظار کر رہے تھے لیکن جب وہ کل آیا تو ہم پھر سے ایک اور کل کی فکر میں مبتلا ہو گئے . اسطرح کبھی اپنے آج سے محظوظ نہ ہو سکے .

پریشانیوں سے نجات کا پہلا اصول یہ ہے کہ آج میں زندہ رہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہےکہ  آنےوالا کل ایک سراب ہے اور گذرا ہوا کل ماضی کی داستان. ماضی میں اب آپ نہیں رہتے. اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے  کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھیں یا مستقبل کے مسائل سے نبٹنے کی تیاری نہ کریں۔ یہ دونوں کام ضروری ہیں ۔ آج میں زندہ رہنے کا  مطلب یہ ہے کہ آنے والے کل یا گذرے ہوئے کل کیلئے کسی قسم کا کوئی غیر ضروری یا انتہائی شدید  تردد، فکر، تشویش،پریشانی، بے چینی اور اضطراب کا مظاہرہ نہ کریں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ،  آپ آنے والے کل کے لئے غیر ضروری طور پر پریشان نہ ہوں۔ آنے والا کل اپنا خود بندوبست کرے گا۔ آپ محض اپنےآج کی فکر کریں اور اسی جانب توجہ مبذول رکھیں

اگر مستقبل کا جائزہ لیا جائے تو اپنی فکر اور اندیشوں کوہم  دو حصوں میں بانٹ سکتے ہیں. ایک قسم تو ان مسائل کی ہے جن کے بارے میں ہم آج تیاری کرسکتے اور ان کا تدارک کرسکتے ہیں ۔ مثال کے طور بہتر روزگار ، بہتر مستقبل ، بہتر صحت ، اچھا معیار زندگی کا حصول وغیرہ.  اسکے لئے ہمیں ہر آج ، ہر پل تیاری کرنا پڑتی ہے . اگر غور کریں تو مستقبل کی یہ تیاری بھی ہمارے آج پر ہی منحصر ہے .  دوسری قسم کے وہ اندیشے ہیں جن کے لئے ہم آج کچھ نہیں کر سکتے اور انکا حل یا تو اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ مسائل درپیش ہونگے یا پھر تقدیر کوئی فیصلہ کر دے . جیسے کسی انسان کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ  انکی کم عمری سے ہی انکے رشتے کی فکر میں مبتلا ہو جاۓ . یا ملک کے عمومی حالات ، آنے والے کرکٹ ٹورنامنٹ کا نتیجہ کیا ہوگا وغیرہ . ان حالات پر ہمارا کوئی زور نہیں ہے اور انکو لیکر کسی تشویش میں مبتلا ہونا بیوقوفی ہے

اسی طرح ماضی کے غم بھی دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن سے ہم سبق سیکھ کر کچھ بہتری لاسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر غصے کی حالت میں کسی نے اپنی بیوی یا اپنے شوہر کے ساتھ ایک ایسے ردعمل کا اظہار کردیا یا ایسی بات کہدی جس کے سبب رشتوں میں گہری دراڑ پڑ گئی ۔ اب اسے چاہئے کہ ماضی سے سبق سیکھ کر آئندہ غصے کی حالات میں اپنے الفاظ پر دھیان دے اور زبان پر قابو رکھے ۔ دوسرے وہ رنج و الم ہوتے ہیں جن سے ہم کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے اور یہ ہماری یادوں میں کانٹوں کی مانند موجود رہتے اور وقتاً فوقتاً کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کا کوئی اپنا جیتے جی آپکو چھوڑ کر چلا گیا – جو چھوڑ کر چلا گیا وہ کبھی آپکا اپنا تھا ہی نہیں – اسکی یاد میں جلتے رہنا کونسی عقلمندی ہے ۔ اس خیال سے چھٹکارا ہی خوشحال زندگی کا ضامن ہے۔

: ان ساری باتوں کا لب لباب یہ کہ

اپنے مستقبل کے اندیشوں کی فہرست بنایں اور دیکھیں کے وہ قابل حل ہیں یا نہیں۔ اگر وہ قابل حل ہیں تو حل تجویز کرکے اسے بھلادیں اور ناقابل حل ہیں توبھی بھلادیں

اپنے ماضی کے پچھتاوے کی فہرست بنایں اور دیکھیں کن پچھتاووں سے آپ آگے کیلئےکوئی  سبق حاصل کر سکتے ہیں اور کون سے پچھتاوے آپ کے لئے صرف اذیت کا سبب ہیں – اسکے بعد ہر پچھتاوے کو بھلانے کی کوشش کریں

آج پر غور کریں اور ان نعمتوں کی فہرست بنائیں جو آپ کو آج حاصل ہیں جیسے صحت، دولت ، عزت، تعلیم وغیرہ۔ پھر ان نعمتوں سے محظوظ ہوں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔

Arshad A Javed
June 14, 2023

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *